10:34 - January 04, 2016
خبر کا کوڈ: 3500041
بین الاقوامی گروپ: عینی شاہدین کے مطابق درجنوں افراد کو قتل کرنے کے بعد فوج نے شیخ ابراہیم زکزاکی کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے اور ابھی تک ان کی کوئی خبر نہیں۔ اس حملے کا جھوٹا جواز یہ بنایا جا رہا ہے کہ شیعہ، آرمی جنرل کو مارنا چاہتے تھے۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ شیعہ نائجیریا میں بھی انتہائی پرامن ہیں۔ نائجیریا کی فوج جو بوکو حرام سے نہیں لڑ سکتی، وہ اب نہتے لوگوں پر گولیاں برسا رہی ہے۔ کیا یہ وحشیانہ بربریت کسی عرب ملک کے کہنے پر تو نہیں کی جا رہی۔؟

ایکنانیوز-اسلام ٹائمز- نائیجیریا ایک افریقی ملک ہے، جس کی کل آبادی 17 کروڑ ہے، جس میں 60 فیصد مسلمان اور ان میں سے 7 فیصد شیعہ ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں تشیع میں روز بروز اضافے کی وجہ سے اسرائیل اور وہابیت نائجیرین عوام کے جانی دشمن بن گئے ہیں، دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی بھرپور سعی کر رہا ہے۔ شیخ ابراہیم زکزاکی ملت جعفریہ نائیجیریا کے قائد، اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ اور رہبرِ مسلمینِ جہاں آیت اللہ السید علی خامنہ ای کے نائجیریا کے لئے نمائندے بھی ہیں۔ جن کے اعلٰی اخلاق کی وجہ سے تمام مسلمان بشمول شیعہ و سنی حتیٰ کہ عیسائی بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شیخ زکزاکی نے خود بھی امام خمینی(رہ) کے افکار سے متاثر ہوکر شیعہ مذہب اختیار کیا اور اب تک لاکھوں لوگوں کو شیعہ کرچکے ہیں۔

شیخ ابراہیم زکزاکی کے بقول میں 1978ء میں یونیورسٹی میں انجمن اسلامی سورہ نائجیریا کا جنرل سیکرٹری تھا اور ہماری خواہش تھی کہ ملک میں اسلام کا بول بالا ہو اور اسلامی قوانین کا اجراء ہو کیونکہ ہماری حکومت کمونیسٹ تھی۔ 1980ء میں پہلی مرتبہ اسلامی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایران آیا تو میری زندگی اور میری فکر میں واضح تبدیلی آئی۔ 80ء کی دہائی میں، میں نے ایک نئی انجمن اسلامی کی بنیاد رکھی اور انجمن اسلامی سورہ سے الگ ہوگیا اور انہی سالوں سے مسلمانوں کے مابین اختلاف ڈالنے کی پالیسی پر عمل شروع ہوا اور ہم نے اسکی بڑی مزاحمت کی اور اتحاد بین المسلمین کیلئے بھی سرگرم ہوگئے۔

نائجیریا کے مسلمان فقہ مالکی پر عمل کرتے ہیں، شیخ زکزاکی نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم وہیں آبائی شہر میں حاصل کی، جس کی وجہ سے انکے لئے شیعہ مذہب کا مطالعہ آسان ہوگیا اور وہ مطالعہ کے بعد شیعہ ہوگئے۔ شیخ زکزاکی ایک عظیم لیڈر ہیں، جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کیلئے بہت زیادہ قربانیاں دیں۔ اسی وجہ سے اسرائیل اور وہابیت ان کی جان کے درپے ہوگئے اور شیعہ مخالف سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ ہر سال یوم القدس کی ریلی کے موقعہ پر شیخ ابراہیم زکزاکی کی قیادت میں تمام مسلمان شیعہ و سنی ملک کر شرکت کرتے ہیں، جو نائجیرین فوج کو کسی طور بھی پسند نہیں تھا۔ 2014ء میں فوج نے قدس ریلی پر دھاوا بول دیا اور 30 سے زائد روزہ دار مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ جن میں شیخ زکزاکی کے کل 4 بیٹوں میں سے تین بیٹے بھی شہید ہوئے، لیکن اپنے تین بیٹے قربان کرنے کے باوجود بھی انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔

13 دسمبر 2015ء بروز اتوار زاریا شہر میں واقع ان کے گھر کے قریب موجود تاریخی امام بارگاہ بقیۃ اللہ میں مجلس جاری تھی، جس میں لاکھوں لوگ جمع تھے۔ اطلاعات کے مطابق نائجیریا کی فوج نے اسی وقت شیخ ابراہیم زکزاکی کے گھر کا محاصرہ کرکے تشیعہ تنظیم تحریک اسلامی کے کارکنوں کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کیا۔ شہید ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی بیوی زینت ابراہیم، ان کے بیٹے سید علی اور بہو بھی شہید ہونے والے افراد میں شامل ہیں۔ اسلامی تحریک نائجیریا نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نائجیرین سکیورٹی فورسز کے شیخ زکزاکی کے گھر پر حملے کے نتیجے میں تحریک کے سینیئر رہنما شیخ محمد توری، ڈاکٹر مصطفٰی سعید، ابراہیم عثمان اور جمی گلیما کی شہادت واقع ہوئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق درجنوں افراد کو قتل کرنے کے بعد فوج نے شیخ ابراہیم زکزاکی کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے اور ابھی تک ان کی کوئی خبر نہیں کہ آیا وہ زندہ ہیں یا اپنے خاندان کے دوسرے افراد کی طرح قتل کر دیئے گئے ہیں۔ اس حملے کا جھوٹا جواز یہ بنایا جا رہا ہے کہ شیعہ، آرمی جنرل کو مارنا چاہتے تھے۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ شیعہ نائجیریا میں بھی انتہائی پرامن ہیں۔ نائجیریا کی فوج جو بوکو حرام سے نہیں لڑ سکتی، وہ اب نہتے لوگوں پر گولیاں برسا رہی ہے۔ کیا یہ وحشیانہ بربریت کسی عرب ملک کے کہنے پر تو نہیں کی جا رہی۔؟ یاد رہے کہ ان پر پہلے بھی کئی بار حملے ہوچکے ہیں، جن میں شیخ ابراہیم زکزاکی زخمی بھی ہوتے رہے ہیں۔

نام:
ایمیل:
* رایے: