IQNA

9:19 - September 28, 2017
خبر کا کوڈ: 3503596
بین الاقوامی گروپ:قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں کالعدم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کے پرچم لہرائے جانے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر مختیار احمد دھامرا نے کہا کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں داعش موجود نہیں ہے حالانکہ داعش کے جھنڈے وفاقی دارالحکومت میں لگ گئے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ داعش کا وجود پاکستان میں نہیں ہے اور پاکستان میں 60 کالعدم تنظیموں پر پابندی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر فوری طورپر درج کر لی گئی تھی اور تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم بھی بنا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارےپاس اطلاعات ہیں کہ یہ کام توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا جبکہ داعش کے جھنڈے کے نیچے انگریزی زبان میں کچھ الفاظ لکھے گئے اور اگر ضرورت پڑی تو اس کوبھی بیان کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں تھانہ کھنہ کے علاقے میں نامعلوم شخص نے عالمی کالعدم تنظیم داعش کا جھنڈا لہرا دیا تھا جس کے بعد وزیر داخلہ احسن اقبال نے واقعے کا نوٹس لیا تھا۔

بعد ازاں دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ آئی بی کے حوالے سے ایک خبر چلی ہے کہ کالعدم تنظیموں سے کچھ ارکان کے رابطے ہیں تاہم وزیر مملکت داخلہ نے آئی بی کے حوالے سے خبروں کی تردید کر دی۔

سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے سیکیورٹی ترمیمی بل بھی منظور کر لیا جس کے تحت دکانوں اور تجارتی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نہ لگانے پر ایک ماہ قید کی سزا تجویز کی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کےسینیٹراعظم سواتی نے کہا کہ سیکیورٹی ترمیمی بل کا مقصد شہریوں اور کاروباری طبقے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں سابق وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر قرارداد پیش کی اور کہا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے۔


نام:
ایمیل:
* رایے: