13:22 - October 06, 2017
خبر کا کوڈ: 3503624
بین الاقوامی گروپ: دہشت گرد تنظیم پولیس اہلکاروں، اہم سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ اور محرم کے بعد شیعہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور امام بارگاہوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق سیکیورٹی ادارے کے اعلیٰ افسران کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ مبینہ دہشت گرد شہر میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ڈان کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا مبینہ دہشت گرد دو سال قبل پنجاب کے صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے خود کش بمبار کو باردوی جیکٹ فراہم کرنے میں ملوث تھا۔

حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مبینہ دہشت گرد کو دو مرتبہ کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا لیکن دونوں ہی مرتبہ ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

کراچی ویسٹ زون کے ڈی آئی جی ذوالفقار نے بتایا کہ ’مقامی پولیس اور آئی بی کی مشترکہ کارروائی کے دوران کالعدم لشکر جھنگوی ایک مبینہ دہشت گرد مارا گیا جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہو گئے‘۔

انہوں نے بتایا کہ 'ہلاک ہونے والا دہشت گرد پنجاب کے صوبائی وزیر داخلہ کے قتل میں ملوث تھا‘۔

آئی بی کے ایک سینئر افسر نے پریس کانفرنس کے دوران انٹیلی جنس رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے قاری سہیل گروپ کے چند دہشت گرد علاقے میں موجود ہیں جو بڑی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

آئی بی اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے جیسے ہی مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانے پر چھاپا مارا تو مبینہ دہشتگردوں نے فائرنگ کردی جس کے بعد سیکیورٹی اداروں کی جوابی کارروائی میں مبینہ دہشت گرد مارا گیا، جس کی شناخت سعد کے نام سے ہوئی جبکہ اس کے دو ساتھی، جن کی شناخت کالعدم لشکر جھنگوی کے امیر مولوی یونس اور ڈاکٹر ریحان کے طور پر ہوئی ہے، اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق ملزمان کے پاس متعدد ہینڈ گرینیڈ، 6 ٹی ٹی پستول، ایک رائفل اور دیگر اسلحہ جبکہ گولہ بارود کا کافی سامان موجود تھا۔

ضلع وسطی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عرفان بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ آئی بی کے مطابق سہیل قیصر عرف قاری سہیل کالعدم لشکر جھنگوی کا مبینہ کمانڈر تھا جس کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات تھے جبکہ 2015 میں راولپنڈی میں پولیس مقابلے کے دوران سہیل قیصر نے خود کو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ خود کش بم دھماکے میں اڑا لیا تھا اور اس دھماکے میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے مطابق سہیل قیصر کی موت کے بعد سعد سرخان روپوش ہوگیا اور بعد میں کراچی میں کالعدم لشکر جھنگوی کا کمانڈر بن گیا۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ کالعدم لشکر جھنگوی کے چیف ملک اسحاق کی اگست 2015 میں پنجاب میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاکت کے بعد مولوی یونس کالعدم تنظیم کے ایک دھڑے کے چیف بن گئے اور 'بدلہ’ لینے کی خاطر پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کے قتل کا منصوبہ بنایا اور یونس نے اس کام کا ذمہ داری سہیل قیصر اور سعد کو سونپا۔

پولیس نے دعوی کیا کہ ان کے پاس اطلاعات تھیں کہ سعد اپنے گروہ کے چیف کی ہدایات پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کراچی آیا تھا۔

ضلع وسطی کے ایس ایس پی نے بتایا کہ ’دہشت گرد پولیس اہلکاروں، اہم سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ اور چینی باشندوں کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے جبکہ انہوں نے محرم کے بعد شیعہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور امام بارگاہوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے کہا کہ ’ہم انٹیلجنس بیورو سندھ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ہمارا ساتھ دیا‘۔


نام:
ایمیل:
* رایے: