IQNA

15:50 - December 30, 2017
خبر کا کوڈ: 3504009
بین لاقوامی گروپ:امریکی صدر یہودیوں کی سازشوں کا آلہ کار بن رہا ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرا ر دینا عالم اسلام کیخلاف کھلا اعلان جنگ ہے۔سربراہ جماعت الدعوہ

لایکنا نیوز- اسلام ٹایمز-یاقت باغ راولپنڈی میں جماعۃ الدعوۃ کے زیراہتمام تحفظ بیت المقدس کانفرنس منعقد ہوئی۔ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، فلسطینی سفیر ولید ابو علی، شیخ رشید احمد، صاحبزادہ ابو الخیر زبیر، لیاقت بلوچ، حافظ عبدالرحمن مکی، اجمل خاں وزیر، مولانا فضل الرحمن خلیل، جمشید احمد دستی، سید یوسف نسیم، مولانا امیر حمزہ، سیف اللہ خالد، مولانا عبدالعزیز علوی، یعقوب شیخ، حافظ عبدالغفار روپڑی، حاجی جہانگیر ماجرا، مولانا اشرف علی، سردار محمد صغیر خان، مولانا سلطان محمود ضیائی، سید محمد یوسف شاہ، حافظ مسعود کمال، حافظ طلحہ سعید، مفتی محمد قاسم، مولانا عبدالرحمان، شفیق الرحمن، ڈاکٹر عظمت اللہ، سردار عبدالباسط، حافظ خالد ولید، مولانا ادریس فاروقی، حافظ عثمان شفیق، ملک صالح محمد ایڈووکیٹ، حافظ مسعود الرحمان جانباز نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ دفاع پاکستان کے مرکزی قائدین نے بیت المقدس و کشمیر کی آزادی، ناموس رسالت اور ختم نبوت کے تحفظ کیلئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ بیت المقدس اور حرمین شریفین امت مسلمہ کے دل ہیں۔

مقررین نے کہا کہ امریکہ سازشوں سے باز نہ آیا تو اس کی سپرمیسی بیت المقدس میں دفن ہو جائے گی۔ ملک کے کونے کونے میں جاکر اہل پاکستان کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں گے۔ 2018ء کشمیر کے نام کرتے ہیں۔ نواز شریف ختم نبوت کیخلاف سازش کے ذمہ دار ہیں۔ وہ اللہ کی پکڑ کا شکار ہوئے ہیں، عدلیہ اور اداروں کیخلاف کھلی بیان بازی ختم کی جائے۔ کوئی این آر او نہیں آرہا۔ عقیدہ ختم نبوت کیخلاف سازشیں کرنیوالوں کی سیاست جلد دفن ہونے والی ہے۔ پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی جائے۔ وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ بیت المقدس اور کشمیر کی آزادی کیلئے سلامتی کونسل میں دھرنا دیں، پاکستان کے اندر دھرنوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ اس موقع خطبہ جمعہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید نے دیا۔ فلسطینی سفیر ولید ابو علی سمیت سیاسی، مذہبی و کشمیری جماعتوں کے قائدین اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے ان کی امامت میں نماز جمعہ ادا کی۔

دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہا کہ حکمران بیت المقدس کی آزادی کیلئے جہاد کا اعلان کریں۔ آج جہاد کو دہشت گردی قرار دیکر مساجد و مدارس کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ حکمران قوم کو جہاد کیلئے تیار کریں۔ اسلام اور پاکستان کا تحفظ اللہ اکبر کے جذبہ سے ہوگا۔ افسوس کہ مسلم حکمران غیرت و حمیت کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ جہاد نے سوویت یونین کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ٹرمپ افغانستان میں ذلیل و رسوا ہوا اور بھاگ رہا ہے۔ اللہ نے ایسے موقع پر مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا بہت بڑا المیہ ہے۔ امت مسلمہ کیخلاف یہودیوں و صلیبیوں کی یلغار روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پورے ملک کے کونے کونے میں جائیں گے اور پاکستانی قوم کو متحد و بیدار کریںگے۔ امریکہ و یورپ عقیدہ ختم نبوت کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں اور حکمرانوں پر دبائو ڈال رہے ہیں۔ ناموس رسالت کیخلاف بھی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ بیرونی قوتیں چاہتی ہیں کہ ہم جس قدر مرضی توہین آمیز اقدامات کریں، مسلمان خاموش رہیں۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ہم نے بیت المقدس اور کشمیر کی آزادی کیلئے قربانیاں پیش کرنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل اسلام اور پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہم نے ملک میں امن و امان برباد کرنے کی امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی سازشیں ناکام بنانی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 جنوری کو پشاور میں، 12 جنوری فیصل آباد، 13 کو لاہور آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ اسی طرح 21 جنوری کو ملتان، 28 جنوری کراچی، 4 فروری کو اسلام آباد اور 5 فروری کو مظفر آباد میں بڑی تحفظ بیت المقدس اور کشمیر کانفرنس ہوگی۔

امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ دفاع پاکستان کونسل ملک میں وسیع تر اتحاد قائم کرکے اسلامیان پاکستان کو متحد کرے گی۔ بیت المقدس، ناموس رسالت، ختم نبوت کے تحفظ اور آزادی کشمیر کیلئے ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ سال 2018ء کشمیر کے نام کرتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کیخلاف سازش سے اللہ نے اس ملک کو محفوظ رکھا۔ بیت المقدس کیخلاف سازشیں کرنے والے ہی ختم نبوت کیخلاف سازش کے پیچھے تھے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنا رویہ بدلیں۔ وہ اللہ کی پکڑ کا شکار ہوئے ہیں۔ عدلیہ اور اداروں کیخلاف کھلی بیان بازی ختم کی جائے۔ ختم نبوت کے مسئلہ کی بنیاد نواز شریف خود ہیں۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور اللہ تعالٰی سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں 2017ء کو کشمیر کے نام کرنے پر مجھے گرفتار کیا گیا۔ ادھر حریت قائدین گرفتار ہوئے۔ انکا کہنا تھا کہ سید صلاح الدین کے بیٹے کو نئی دہلی جیل بھیج کر تشدد کیا گیا، جبکہ پاکستان میں مجھے دس ماہ نظربند رکھا گیا۔ میں کشمیریوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے تحریک آزادی کو پروان چڑھایا اور اس فیصلہ کی لاج رکھی۔ سینکڑوں کشمیری شہید ہوئے۔ لاکھوں کشمیری جنازوں میں شریک ہوئے اور دنیا کو پیغام دیا کہ کشمیر کی تحریک جاری ہے اور جاری رہے گی۔ دنیا آج سمجھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے برکس ممالک کے اعلامیہ میں کشمیری تنظیموں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں ہونے دیا۔ کشمیر کی تحریک آزادی میں ہر ممکن تعاون پیش کریں گے۔

حافظ محمد سعید نے کہا کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل پوری دنیا کے امن کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہودیوں کی خصلت ہے کہ وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اور قتل و غارت گری کی سازشیں کرتے ہیں۔ ہزاروں سال کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ یہودیوں کی سازشوں سے ہمیشہ دنیا کی امن و سلامتی کو خطرات رہے ہیں۔ اللہ نے یہودیوں کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا حالیہ اعلان معمولی نہیں، اس کے پیچھے یہودیوں کی سازش چھپی ہوئی ہے۔ حافظ سعید نے کہا کہ امریکی صدر یہودیوں کی سازشوں کا آلہ کار بن رہا ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرا ر دینا عالم اسلام کیخلاف کھلا اعلان جنگ ہے۔ قبلہ اول کے تحفظ کیلئے مسلم امہ کا بچہ بچہ کٹ مرنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ اور نیٹو ممالک کو افغانستان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ مسئلہ بیت المقدس کا نہیں مکہ اور مدینہ کا بھی ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ پر لگائے گئے نقشہ میں سرزمین حرمین شریفین بھی شامل ہے۔ مشرق وسطٰی میں بھڑکنے والی جنگ بہت خوفناک ہوگی۔ اس کے نتیجہ میں اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کہتا ہے کہ ہمیں افغانستان میں شکست قبول نہیں، اس کیلئے مسلمانوں کے دلوں پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ بیت المقدس اور حرمین شریفین ہمارے دل ہیں۔ امریکہ سازشوں سے باز نہ آیا تو اس کی سپرمیسی بیت المقدس میں دفن ہو جائے گی۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عالم اسلام کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سازشوں سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کے طعنے دینے والی ہماری آواز خاموش کرنا چاہتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہمارا پیغام یہ ہے کہ تمام مسلم ممالک متحد ہو کر ٹرمپ کے اس چیلنج کو قبول کریں اور اعلان کریں کہ جس دن بیت المقدس میں اسرائیلی دارالحکومت منتقل کیا جائے گا، اس دن مسلمان ملک اور اس کی فوجیں قبلہ اول کا دفاع کرتے ہوئے اسے آزاد کروائیں گی اور پھر صرف حکومتیں ہی نہیں پورا عالم اسلام اٹھے گا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی سے دنیائے کفر تھر تھر کانپ رہی ہے۔ انڈیا اور اسرائیل کی دہشت گردی کا پاکستان منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔ یہ ملک لا الہ الا اللہ کی جاگیر ہے۔ ہمارا ایٹم بم اور وسائل اسلام کے تحفظ کیلئے ان شاء اللہ استعمال ہوں گے۔

حافظ محمد سعید نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا میں امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ قبلہ اول، بیت اللہ اور مسجد نبوی حق رکھتے ہیں کہ ہم ان کیلئے قربانیاں ادا کریں۔ پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی جائے۔ حکومتیں اور عوام توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان قائدانہ کردار ادا کرے۔ امیر جماعۃ الدعوۃ نے کہا کہ اس وقت جہاد کو بدنام کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ سازش کے تحت دہشت گردی کیلئے تنظیمیں کھڑی کی گئیں۔ حافظ سعید کا کہنا تھا کہ اگر چاہتے ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ملکوں سے داعش جیسی تنظیموں کی دہشت گردی ختم ہو جائے، جو مسجدوں، اسکولوں اور مارکیٹوں میں دھماکے کر رہی ہیں تو پھر 41 ملکوں کا اتحاد قبلہ اول کے تحفظ کا اعلان کرے اور صاف طور پر کہہ دیا جائے کہ امریکہ اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے باز رہے اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے تو ہم چیلنج قبول کر کے اپنے وسائل استعمال کریں گے اور یہودی سازشوں کا توڑ کریں گے۔

آج کفار کی سازش ہے کہ مسلمان ملکوں میں شیعہ سنی جھگڑے کھڑے کئے جائیں۔ خلیج اور سعودی عرب کو نشانہ بنایا جائے۔ آج بیت المقدس اور پھر حرمین شریفین کو خطرہ ہے۔ مسلمان ان کیلئے ناقابل برداشت ہیں۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ ہم نے پورے ملک میں تحفظ بیت المقدس، ختم نبوت، ناموس رسالت کے تحفظ اور کشمیر کی آزادی کیلئے بھرپور تحریک چلانی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: