IQNA

14:31 - March 03, 2018
خبر کا کوڈ: 3504276
بین الاقوامی گروپ:عمران خان سے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ ایک ایسے مدرسے کو اتنا بڑا فنڈ کیوں دیا جارہا ہے ، جسے مذہبی انتہا پسندی پہ مبنی دہشت گرد تنظیموں کے بڑے بڑے نام پیدا کرنے کا الزام دیا جاتا رہا ہے

ایکنا نیوز- شفقنا-اکوڑہ خٹک کے دارالعلوم حقانیہ اور خیبرپختون خوا حکومت کے درمیان ایک باہمی اتفاق کی یادداشت پہ دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ باہمی اتفاق پہ مبنی یادداشت اس مالی اور لاجسٹک امداد کے ضمن میں ہے جو خبیرپختون خوا حکومت نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس امداد کا ایک حصّہ پہلے ہی دیا جاچکا ہے جبکہ باقی ماندہ بھی جلد ہی جاری کردی جائے گی۔

خیبر پختون خوا کی حکومت 300 ملین 30(کروڑ) روپے دارالعلوم حقانیہ کے لیے مختص کرچکی ہے ۔ صوبائی حکومت نے دارالعلوم حقانیہ کے ساتھ باہمی اتفاق کی جس یادداشت پہ دستخط کیے ہیں، اس کے مطابق دارالعلوم حقانیہ میں پڑھنے والے طلبا کے لئے عصری جدید علوم پڑھائے جانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ ایک ایسے مدرسے کو اتنا بڑا فنڈ کیوں دیا جارہا ہے ، جسے تحریک طالبان، لشکر جھنگوی سمیت تکفیری، جہادی، مذہبی انتہا پسندی پہ مبنی دہشت گرد تنظیموں کے بڑے بڑے نام پیدا کرنے کا الزام دیا جاتا رہا ہے۔ اور اس مدرسے کے مہتم خود بھی ان دہشت گردوں کی شاگردی پہ فخر کرتے رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس مدرسے کا نام سابق وزیراعظم محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں بھی آتا رہا ہے ۔ اس کا جواب عمران خان نے یہ دیا کہ ان کی پارٹی کی پالیسی یہ ہے کہ مدارس دینیہ میں پڑھنے والے بچوں کو مین سٹریم کیا جائے ۔ ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں نوکریاں حاصل کرسکیں۔

عمران خان اور ان کی پارٹی کے چیف منسٹر پرویز خٹک، وزیر مذہبی امور شاہ فرمان سمیت کے پی حکومت کے کسی ترجمان نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ اب تک صوبے میں اور کتنے مدارس کو کتنی امداد ، مدارس کے طلبا کو مین سٹریم میں لانے کے نام پہ فراہم کی گئی ہے۔  کتنے مدارس ہیں جن کا تعلق وفاق المدارس (دیوبندی،  تنظیم المدارس(بریلوی)، سلطان المدارس (شیعہ) اور دیگر مکاتب فکر کے ہیں، جن کو امداد جاری کی گئی۔ اور ساڑھے چار سال میں مدارس کی مین سٹریمینگ پالیسی کے اثرات کیا مرتب ہوئے ۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کو 300 ملین روپے کی خطیر رقم فراہم کرنے کا جو جواز سربراہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش کیا گیا، اس میں بظاہر موقف یہ ہے کہ درس نظامی تک محدود رہنے والے مدارس میں اگر جدید تعلیم کو رائج کردیا جائے تو ان مدارس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی طرف رجحان کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں جہادی اور عالمگیر تکفیری فاشسٹ تنظیموں کی مرکزی قیادت اور ان کے علاقائی نیٹ ورکس میں ماسٹر مائنڈ کو دیکھا جائے تو ان کی بھاری اکثریت کا تعلق جدید تعلیم سے بہرہ ور لوگوں سے رہا ہے ۔ ان میں سے اکثر کے پروفائل ان کو ماڈرن مڈل کلاس، تاجر یا زمین دار پس منظر سے ظاہر کرتے ہیں۔

سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا جدید و قدیم علوم کے اختلاط اور ماڈرن تعلیم کے رائج ہونے سے کسی مدرسے کو تکفیری، جہادی اور عسکریت پسند تنظیموں میں افراد کو بھرتی ہونے کی ترغیب دینے والے مرکز میں بدلنے سے روکا جاسکتا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں ہمیں کراچی میں اس وقت وفاق المدارس کے تحت چلنے والے تین بڑے مدارس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ دارالعلوم بنوری ٹاؤن جسے مولانا یوسف بنوری نے قائم کیا، یہ ادارہ اس وقت صرف درس نظامی کی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ یہ عربی زبان، اسلامیات، علوم فقہ و حدیث میں ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز پیدا کررہا ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ ادارہ فنانس میں ایم بی اے ، ایم اے معاشیات، ایم فل معاشیات اور اسلامی بینکاری کے بہترین ڈگری کورسز بھی کروارہا ہے اور اس ادارے سے بینکنگ کے کورسز کرنے والے سیکڑوں فاضلین پاکستان کی سٹاک ایکسچینج اور بینکنگ سیکٹر میں ملازمت کر رہے ہیں۔ جامعہ رشیدیہ کراچی بھی جدید و قدیم علوم کے امتزاج کا نمونہ ہے ۔ ایسے ہی جامعہ فاروقیہ کراچی بھی ہے ۔ لیکن یہ تینوں مدارس تحریک طالبان افغانستان و پاکستان، جہاد کشمیر سے وابستہ حرکت الانصار، حرکۃ المجاہدین اور جیش محمد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے مدارس ثابت ہوئے ۔ ان مدارس سے سپاہ صحابہ اور ختم نبوت انٹرنیشنل موومنٹ کو بھی نظریاتی اور افرادی قوت مہیا ہوئی۔

جامعہ اشرفیہ لاہور جنرل ضیا الحق کے زمانے سے جدید و قدیم تعلیم کا امتزاج لیے ہوئے ہے ۔ اس مدرسے سے طاہر اشرفی سمیت کئی فاضلین جہاد افغانستان، جہاد کشمیر اور اس کے ساتھ سپاہ صحابہ پاکستان جیسی تنظیموں سے وابستہ ہوئے ۔ سب سے بڑی مثال لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی ہے ۔ مولوی عبدالعزیز اور مولوی غازی عبدالرشید کے والد مولوی عبداللہ کے زمانے سے ہی یہاں پہ جدید تعلیمی ڈگریوں کا حصول شروع ہوگیا تھا۔ فرحت ہاشمی کا ادارہ الھدیٰ انٹرنیشنل کا ہدف ہی پاکستان کی جدید یونیورسٹیاں اور کالجز کی طالبات ہیں۔ ان جیسے اداروں میں ہم نے جہاد ازم، پولیٹکل ریڈیکل اسلام ازم اور تکفیر ازم کو منظم انداز میں پھلتے پھولتے دیکھا ہے ۔ یہ سوال اٹھانے کی ضرورت بھی ہے کہ کیا درس نظامی تک محدود رہنے والے مدارس میں پڑھنے والے طلبا لازمی انتہا پسندانہ عسکریت پسندی کی جانب جاتے ہیں۔ پاکستان میں آج تک ایک بھی بریلوی اور شیعہ دینی مدرسہ ایسا نہیں جہاں سے تکفیری جہاد ازم اور اس سے وابستہ عسکریت پسندوں کو لاجسٹک یا آئیڈیالوجیکل سپورٹ ملی ہو یا وہاں کے طالب علموں یا اساتذہ میں کوئی عسکریت پسندوں کا استاد یا ان کی قیادت کا حصّہ بن کر سامنے آیا ہو۔  سب سے بڑھ کر یہ کہ خود دیوبندی وفاق المدارس سے وابستہ سینکڑوں مدارس ایسے ہیں جن کو ہم تکفیر ازم اور جہاد ازم پھیلانے والے مدارس قرار نہیں دے سکتے ۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی انتہا پسندی، دہشت گردی اور مدارس کے باہمی تعلق کے سوال پہ اختیار کی جانے والی پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو وہ جنرل ضیاالحق کے دور میں اختیار کی جانے والی پالیسیوں سے مختلف نہیں ہے ۔ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی طرف سے ملنے والے اشاروں کو دیکھا جائے تو ان کی پالیسی بھی ضیاالحق کی سوچ کا تسلسل نظر آتی ہے ۔ ریاست مجموعی طور یہ سمجھتی ہے کہ چند بڑے پیمانے پہ سیاسی و سماجی اثر ورسوخ رکھنے والے جہادی۔ تکفیری۔ انتہا پسند نیٹ ورک کو ‘مین سٹریم’ کرنے کے نام پہ مالی اور لاجسٹک امداد دے دی جائے تو اس سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ لیکن حقیقت میں وہ تکفیر ازم اور جہاد ازم کی بنیاد پہ اپنا سماجی اورسیاسی اثر پھیلانے والے نیٹ ورکس کے خلاف، جو ایک طرح سے مذہبی مافیاز کی شکل اختیار کرگئے ہیں، کوئی بھی ٹھوس اقدام اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز اپنے اپنے صوبوں کے اندر فرقہ پرستوں، مذہبی انتہا پسندوں، کالعدم تنظیموں سے انتخابی اتحاد قائم کیے ہوئے ہیں اور یہ جہادیوں اور تکفیریوں کو اپنے اثاثوں کے طور پہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے سپاہ صحابہ، تحریک طالبان، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (س) کو خیبرپختون خوا میں استعمال کیا تو مسلم لیگ نواز نے بھی سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک طالبان، سمیت مختلف تکفیری جہادی اثاثوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے ۔ 
مذہبی منافرت کا کارڈ استعمال کرنے کی تاریخ ویسے تو بہت پرانی ہے لیکن اگر سابق گورنر سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل سے پہلے ان کے خلاف چلنے والی منافرت پہ مبنی مہم کے تانے بانے تلاش کیے جائیں تو وہ مسلم لیگ نواز سے جا ملتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت خیبر پختون خوا میں شیعہ نسل کشی کی لہر کا اگر تحریک انصاف کے مولانا سمیع الحق اور سپاہ صحابہ کے اورنگ زیب فاروقی سے روابط اور اتحاد کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی کی قیادت کے شرمناک موقع پرست کردار کا اندازہ لگانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔

نام:
ایمیل:
* رایے: