IQNA

11:56 - June 09, 2019
خبر کا کوڈ: 3506215
بین الاقوامی گروپ- نارڈراین صوبے کے اسکولوں میں اسلامی مضمون پر مسلمان اراکین پارلیمنٹ نے اعتراض اٹھا دیے۔

ایکنا نیوز- نارڈراین صوبے میں اسلامی انجمنوں اور کلیساوں کی شرکت کے ساتھ اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جسمیں دو سو پچاس اسکولوں میں اسلامی کورس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اجلاس میں مسلمان نمایندگان نے مستقل طور پر اسکولوں میں اسلامی مضمون پڑھانے پر اصرار کیا جبکہ اسلامی ا نجمنوں کو رجسٹرڈ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

 

سال ۲۰۱۲ سے آزمائشی اور عارضی طور پر اسکولوں میں اسلامی مضمون پڑھایا جارہا ہے جو جولائی تک جاری رہے گا ۔

صوبے میں مسلمان نمایندوں اور تعلیمی حکام کی شرکت کے ساتھ آٹھ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو امور میں مشاورت سے کام کررہی ہے۔

 

ایرانی ثقافتی مرکز کے مطابق طے پایا ہے کہ مشورتی ٹیم کی جگہ مکمل طور پر اختیارات تعلیمی حکام کے سپرد کیا جائے تاہم موجودہ ٹیم چاہتی ہے کہ سال ۲۰۲۵ تک موجودہ تعلیمی سسٹم کو برقرار رکھا جائے۔

 

تعلیمی کمیشن پر اعتراض

 

مسلمان نمایندوں پر مشتمل کمیٹی نے تعلیمی سسٹم پر اعتراض کیا ہے اور ان کے مطابق اس کمیشن کو مسلمان نمایندگان کے تحفظات کو دور کرنا چاہیے۔

موجودہ گروپ کا کہنا ہے کہ پہلے اسلامی کورس کے لیے سسٹم بنانا چاہیے اور اسی طرح موجود عارضی اسلام کورس کو مستقل کرنا چاہیے تاکہ مسلمان بچے اپنے مذہب کے مطابق تعلیم حاصل کرسکے۔

 

بچوں کی اسلامی تربیت

 

مسلمان ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی اعتراض کیا ہے کہ کسی تعلیمی امور میں ان سے مشاورت نہیں کی جاتی ہے ۔ گذشتہ سال انیس ہزار سے زائد طلبا اسلامی کورس سے مستفید ہورہے تھے جبکہ صوبے میں چار لاکھ سے زاید مسلمان طلبا زیر تعلیم ہیں۔

3817761

نام:
ایمیل:
* رایے: